مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق مسلسل متضاد بیانات نے واشنگٹن کی پالیسی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ رویہ صرف شخصی انداز کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کے مقابلے میں امریکی حکمت عملی کے بحران کی علامت ہے۔ امریکہ کی جانب سے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے بعد ٹرمپ ایک بار پھر اس مفاہمت کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ 40 روزہ جنگ کے آغاز سے اب تک ٹرمپ کئی مرتبہ متضاد بیانات دے چکے ہیں، جن کی بنیادی وجہ تہران کے مقابلے میں واشنگٹن کی مسلسل ناکامیاں ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک فوجی سپر پاور کے طور پر امریکہ کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے۔ امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں نے بھی یہ ظاہر کیا کہ واشنگٹن کو سب سے زیادہ اپنی عالمی حیثیت اور برتر عسکری طاقت کی ساکھ برقرار رکھنے کی فکر لاحق ہے۔
بحران صرف فوجی نہیں، امریکی ساکھ کا بھی ہے
حقیقت یہ ہے کہ آج واشنگٹن صرف ایک فوجی بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ اسے اپنی ساکھ کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ فوجی آپشن کی ناکامی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی کم ہوتی تاثیر نے امریکہ کو متضاد مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی اصل تشویش صرف ایران کا جواب نہیں بلکہ اس جواب کے امریکی عالمی مقام اور اس کی ڈیٹرنس کی ساکھ پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ ایسے حالات میں ٹرمپ کا بار بار لہجہ بدلنا، کبھی دھمکیاں دینا، کبھی معاہدے کی بات کرنا اور پھر دوبارہ دھمکی آمیز زبان اختیار کرنا، کسی منظم حکمت عملی سے زیادہ ایران کے مقابلے میں واشنگٹن کی تزویراتی ناکامی کو چھپانے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔
بڑی طاقتوں کی شناخت صرف ان کے بحری بیڑوں، بمبار طیاروں یا فوجی اڈوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی اصل قوت ان کا دفاعی اعتبار ہوتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو بہت سے حریفوں کو تصادم شروع ہونے سے پہلے ہی براہ راست مقابلے سے باز رکھتا ہے۔ ڈیٹرنس بھی اسی تصور پر قائم ہے کہ فریق مخالف یہ یقین رکھے کہ امریکہ سے ٹکر لینے کی قیمت اس کے ممکنہ فائدے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اگر یہ یقین متزلزل ہو جائے تو امریکہ کی طاقت کا ایک بڑا حصہ بغیر کسی گولی چلائے ہی کمزور ہوسکتا ہے۔
جب امریکہ کے اندازے بدل گئے
حالیہ جنگ کے دوران جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک محدود فوجی تصادم نہیں تھا بلکہ امریکہ کی ڈیٹرنس کی ساکھ کا ایک اہم امتحان بھی تھا۔ واشنگٹن اس خیال کے ساتھ میدان میں آیا تھا کہ طاقت کا مظاہرہ ایران کو پسپائی پر مجبور کر دے گا، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ نہ صرف ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ اس نے براہ راست جواب دے کر یہ پیغام دیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی قیمت اب یک طرفہ نہیں رہے گی۔ اندازوں میں یہی تبدیلی امریکی ڈیٹرنس کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کے متضاد بیانات کو بھی دیکھنا چاہیے۔ وہ ایک دن معاہدے کی بات کرتے ہیں، اگلے دن اس کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں اور چند گھنٹوں بعد پھر دھمکی آمیز زبان اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ تیز رفتار تبدیلیاں کسی سوچی سمجھی حکمت عملی سے زیادہ اس مشکل فیصلہ سازی کی عکاسی کرتی ہیں جس میں موجود کوئی بھی آپشن مطلوبہ نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔ کشیدگی میں اضافہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے غیر متوقع اخراجات کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ کھلی پسپائی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگی۔ ایسے تعطل میں حکمت عملی کی جگہ تضاد لے لیتا ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ بحران صرف تہران اور واشنگٹن کے تعلقات تک محدود نہیں۔ امریکہ کے اتحادی بھی واشنگٹن کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ بہت سی حکومتوں کے لیے یہ سوال اہم بن چکا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے مقابلے میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتا تو وہ دنیا کے دیگر خطوں میں اپنے شراکت داروں کی سلامتی کی ضمانت کس حد تک دے سکتا ہے۔ اس لیے معاملہ صرف ایران کا نہیں بلکہ امریکہ کی سلامتی سے متعلق ضمانتوں کی ساکھ بھی آزمائش سے گزر رہی ہے۔
متضاد پیغامات کیوں دیے جا رہے ہیں؟
دوسری جانب امریکہ کے حریف بھی حالیہ پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ واشنگٹن کی ناقابل شکست ہونے کی شبیہ جتنی زیادہ متاثر ہوگی، اتنا ہی آزادانہ کردار رکھنے والے ممالک میں امریکی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت کا حوصلہ بڑھے گا۔ اسی لیے آج کی اصل جنگ فوجی میدان سے زیادہ ادراک اور تزویراتی اندازوں کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے، جہاں امریکہ کی حقیقی طاقت سے زیادہ اس کی طاقت کے بارے میں ریاستوں کا تصور اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
ایسے ماحول میں وائٹ ہاؤس متضاد پیغامات کے ذریعے اس ساکھ کے زوال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تاکہ کشیدگی کو محدود رکھا جا سکے اور کبھی دھمکی آمیز بیانات کو نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ امریکہ کی طاقت کا تاثر برقرار رہے۔ تاہم دھمکی اور مفاہمت کے درمیان یہ مسلسل اتار چڑھاؤ خود اعتمادی کی علامت نہیں بلکہ کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔ جس طاقت کو اپنے ذرائع اور صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہو، اسے بار بار اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اسی وجہ سے آج امریکہ کا اصل مسئلہ صرف ایران کے ساتھ اختلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ اگر ڈیٹرنس، جو امریکی طاقت کا سب سے اہم ستون سمجھی جاتی ہے، کمزور پڑ جائے تو اس کے اثرات صرف ایک علاقائی تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکہ کے اتحادیوں، حریفوں اور اس کے مطلوبہ عالمی سلامتی کے نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔
اس تناظر میں ٹرمپ کے متضاد رویوں کو صرف ان کی شخصی خصوصیات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے وہ امریکی حکمت عملی کے ایک گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے، ایسا بحران جس میں دباؤ ڈالنے کے روایتی ذرائع، خواہ وہ پابندیاں ہوں، فوجی دھمکیاں ہوں یا طاقت کا مظاہرہ، اب ماضی کی طرح واشنگٹن کی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جب طاقت کے ذرائع اپنی تاثیر کھونے لگتے ہیں تو اس کی پہلی جھلک سیاست دانوں کی زبان میں نظر آتی ہے؛ ایسی زبان جو ہر روز دھمکی، مذاکرات اور پسپائی کے درمیان جھولتی رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ کے ڈیٹرنس کے بحران کو بے نقاب کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ